ڈاکٹر اسلم فرخي ۱۵؍ جون ۲۰۱۶ء کو خالقِ حقيقي سے جاملے۔

ڈاکٹر اسلم فرخي ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۲۶ء کو فتح گڑھ ضلع فرخ آباد (يوپي، ہندوستان) کے ايک علمي گھرانے ميں پيدا ہوئے۔ اُن کا خاندان فتح گڑھ سے نقل مکاني کرکے لکھنؤ کے محلے سبحان نگر ميں آبسا تھا اور يہيں اُن کي پيدائش ہوئي۔ والد محمد احسن اور خاندان کے ديگر کئي افراد شاعر و اديب تھے۔

۵؍ ستمبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان آئے اور کارِ حيات کا آغاز کيا۔ ڈاکٹر اسلم فرخي نے گورنمنٹ ہائي اسکول، فتح گڑھ سے ميٹرک کيا۔ پاکستان آمد سے قبل سينٹ جانس کالج، آگرہ سے بي اے کرچکے تھے لہٰذا کراچي آنے کے بعد انھوں نے جامعہ کراچي سے ايم اے اور پي ايچ ڈي کي ڈگرياں حاصل کيں۔ دورانِ تعليم ہي ريڈيو پاکستان سے منسلک ہوگئے۔ انھوں نے کئي تعليمي اداروں ميں علم و ادب کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام ديں۔ وہ جامعہ کراچي سے ناظمِ شعبۂ تصنيف و تاليف و ترجمہ کي حيثيت سے بھي وابستہ رہے۔ جامعہ کراچي ميں رجسٹرار کے طور پر بھي کام کيا۔ نيز يہ کہ وفاقي اردو يوني ورسٹي کے قيام کے بعد ايک عرصے تک انھوں نے شعبۂ تصنيف و تاليف کے اعزازي نگراں کي حيثيت سے مختلف شعبوں کے نصابي علوم کي انگريزي کتابوں کا اردو ترجمہ کرايا جن سے خصوصي طور پر پوسٹ گريجويٹ طلبہ و طالبات استفادہ کر رہے ہيں۔

وہ ريڈيو پاکستان کے ليے ڈرامے، فيچر اور تقريريں لکھتے رہے۔ ان کا ايک انتہائي مفيد اور مقبول تقريري سلسلہ ’’روشني‘‘ کے عنوان سے منگل کي صبح ريڈيو پاکستان کے قومي نشرياتي رابطے پر تقريباً پچّيس برس نشر ہوتا رہا۔ ان کا شمار بچوں کے ممتاز اديبوں ميں بھي ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اسلم فرخي اساتذہ ميں ممتاز حيثيت رکھتے تھے۔ ان کي نگراني ميں متعدد طلبہ نے ايم فل اور پي ايچ ڈي کي ڈگرياں حاصل کيں۔ ان کے بڑے صاحب زادے ڈاکٹر آصف فرخي انگريزي اور اردو کے معروف نقاد، افسانہ نگار، مترجم اور استاد ہيں اور بقول جناب مشفق خواجہ وہ ڈاکٹر اسلم فرخي کي ايک ’وقيع تصنيف‘ بھي ہيں۔ ڈاکٹر اسلم فرخي نے انجمن ترقيِ اردو ميں تقريباً ساڑھے نو برس مشيرِ علمي و ادبي کي حيثيت سے خدمات انجام ديں۔ وہ شاعر بھي تھے ليکن کبھي خود کو شاعر نہيں کہا اور نہ ہي اپنا کوئي شعري مجموعہ مرتب کيا۔

ڈاکٹر اسلم فرخي کے والد محمد احسن صاحب طباعت کے پيشے سے وابستہ تھے۔ اُن کا اپنا چھاپہ خانہ تھا۔ ڈاکٹر اسلم صاحب نے بھي کراچي ميں اس روايت کو جاري رکھا اور ’احسن مطبوعات‘ کے نام سے ايک ادارہ قائم کيا جس کے تحت کئي کتابيں شائع کيں۔ انتقال تک ڈاکٹر اسلم فرخي کا حافظہ بہت اچھا تھا۔ انھيں تمام پراني باتيں، لوگ اور واقعات ياد تھے۔ ہزاروں اشعار اور بے شمار الفاظ اُن کے حافظے ميں محفوظ تھے۔ انھيں پاکستان اور خصوصاً شہر کراچي سے بے پناہ محبت تھي۔

اسلم فرخي صاحب ايک عرصے سے صاحبِ فراش تھے ليکن اس کے باوجود بھي نہ صرف تحرير و تصانيف سے اُن کا تعلق قائم تھا بلکہ ان کي رہائش گاہ پر ہفتہ وار ادبي نشستوں کا سلسلہ جاري رہا جن ميں شہر کے معروف اديب، شعرا اور نقادانِ فن متنوع ادبي و علمي موضوعات پر گفتگو ميں حصہ ليتے۔ اس مفيد سلسلے ميں ہماري تہذيبي پاس داري کي جھلک نظر آتي تھي۔ ڈاکٹر اسلم فرخي اردو دنيا کي اس اعتبار سے ممتاز شخصيت تھے کہ انھوں نے اسے قابلِ قدر کتابوں کا مؤقر اثاثہ عطا کيا۔ ان کا زندگي نامہ اور ان کي کتابوں کا تعارف پيش کيا جارہا ہے۔

نام: اسلم فرخی

تخلص: اسلمؔ

پیدائش: لکھنؤ، ۲۳ ٭ اکتوبر ۱۹۲۶ء

آبائی وطن: فتح گڑھ، ضلع فرخ آباد (یوپی، ہندوستان)

والد: محمد احسن (شاعر، ادیب)

زوجہ: تاج بیگم فرخی (ڈپٹی نذیر احمد کی پڑپوتی اور شاہد احمد دہلوی کی بھتیجی)

تعلیم: میٹرک، گورنمنٹ ہائی اسکول، فتح گڑھ انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن، سینٹ جونس کالج، آگرہ ایم اے، پی ایچ ڈی، کراچی یونی ورسٹی

سیاسی سرگرمیاں: ۱۹۴۶ء میں مسلم لیگ کے علاقائی سطح پر سیکرٹری

ہجرت: ۵؍ ستمبر ۱۹۴۷ء

ادارت: میرا رسالہ (بچوں کا ماہ نامہ) ملازمت: ہفتہ وار ’’نظام‘‘، بمبئی ریڈیو پاکستان (مشہور ہفتہ وار پروگرام – ’’روشنی‘‘، فیچر، ڈرامے، شعبۂ موسیقی)

سندھ مسلم کالج (استاد)

انجمن ترقیِ اردو پاکستان(مشیرِ علمی و ادبی)

سندھ مدرسہ کالج (استاد)

جامعہ کراچی (استاد، رجسٹرار، نگراں شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ)

گورنمنٹ کالج ناظم آباد (استاد)

وفاقی اردو یونی ورسٹی (استاد، نگراں شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ)

شادی: ۹؍ اپریل ۱۹۵۵ء

اولاد: دو بیٹے: ڈاکٹر آصف فرخی (نامور افسانہ نگار، نقاد اور مدیر)، طارق اسلم

اعزازات: ۱۹۶۵ء داؤد ادبی انعام، ’’محمد حسین آزاد: حیات اور تصانیف‘‘

۲۰۱۲ء صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی

وفات: کراچی، ۱۵؍ جون ۲۰۱۶ء

مطبوعات

(۱) ۱۹۶۲ء – نیرنگِ خیال (محمد حسین آزاد) تدوین: ڈاکٹر اسلم فرخی کراچی: باب الاسلام پریس

(۲) ۱۹۶۵ء – محمد حسین آزاد— حیات اور تصانیف مقالہ براے پی ایچ ڈی (جامعہ کراچی) کراچی: انجمن ترقیِ اردو پاکستان

(۳) ۱۹۶۷ء – گلشنِ ہمیشہ بہار (تذکرۂ شعرا) ترتیب: ڈاکٹر اسلم فرخی کراچی: انجمن ترقیِ اردو پاکستان

(۴) ۱۹۸۷ء – ادعیۃ القرآن (ڈپٹی نذیر احمد) تصحیح و مقدمہ: ڈاکٹر اسلم فرخی کراچی: ڈپٹی نذیر احمد تعلیمی ٹرسٹ

(۵) ۱۹۸۸ء – نظام رنگ کراچی: احسن مطبوعات

(۶) ۱۹۸۹ء – صاحب جی سلطان جیؒ کراچی: احسن مطبوعات

(۷) ۱۹۹۰ء – فرید و فردِ فرید ؒ کراچی: احسن مطبوعات

(۸) ۱۹۹۳ء – باباے اردو مولوی عبدالحق (بچوں کے لیے) کراچی: انجمن ترقیِ اردو پاکستان

(۹) ۱۹۹۳ء – ڈپٹی نذیر احمد کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۱۰) ۱۹۹۳ء – بچوں کے رنگا رنگ امیر خسرو کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۱۱) ۱۹۹۳ء – مرزا غالب کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۱۲) ۱۹۹۳ء – محمد حسین آزاد کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۱۳) ۱۹۹۳ء – قلفی والی سائیکل کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۱۴) ۱۹۹۴ء – گلدستۂ احباب کراچی: مکتبۂ دانیال

(۱۵) ۱۹۹۴ء – مولانا حسرت موہانی کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۱۶) ۱۹۹۴ء – میر امن کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۱۷) ۱۹۹۸ء – شبلی نعمانی کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۱۸) ۱۹۹۸ء – فرمایا حضرت سلطان جی نے کراچی: فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ

(۱۹) ۱۹۹۸ء – فرمایا خواجہ غریب نوازؒ نے پیش کردہ: صاحب زادہ سیّد محمد سلیم چشتی (درگاہ شریف، اجمیر) دہلی: مکتبۂ جامعہ لمیٹڈ

(۲۰) ۱۹۹۹ء – فرمایا حضرت داتا گنج بخشؒ نے مرتبہ – ڈاکٹر اسلم فرخی کراچی: فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ

(۲۱) ۲۰۰۰ء – فرمایا حضرت غوث الاعظمؒ نے مرتبہ – ڈاکٹر اسلم فرخی کراچی: فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ

(۲۲) ۲۰۰۰ء – سلطان جی کراچی: ہمدرد فاؤنڈیشن پریس

(۲۳) ۲۰۰۰ء – مولا بخش ہاتھی کراچی: اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس

(۲۴) ۲۰۰۱ء – فرمایا خواجہ فرید الدین گنج شکر نے کراچی: فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ

(۲۵) ۲۰۰۱ء – آنگن میں ستارے کراچی: شہرزاد

(۲۶) ۲۰۰۵ء – لال سبز کبوتروں کی چھتری کراچی: شہرزاد

(۲۷) ۲۰۰۸ء – بزمِ صبوحی کراچی: شہرزاد

(۲۸) ۲۰۰۹ء – بزمِ شاہد کراچی: شہرزاد

(۲۹) ۲۰۱۰ء – موسمِ بہار جیسے لوگ کراچی: شہرزاد

(۳۰) ۲۰۱۰ء – نگارستانِ آزاد کراچی: شہرزاد

(۳۱) ۲۰۱۱ء – سات آسمان کراچی: شہرزاد

(۳۲) ۲۰۱۴ء – رونقِ بزمِ جہاں کراچی: شہرزاد

(۳۳) ۲۰۱۵ء – حضرت موسیٰ علیہ السلام کراچی: اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس

(۳۴) س ن – دبستانِ نظام ناشر: پاکستان رائٹرس کوآپریٹو سوسائٹی، لاہور طابع: فضلی سنز پرائیویٹ لمیٹڈ، کراچی

(۱) ۲۰۰۹ء – ڈاکٹر اسلم فرخی بحیثیت خاکہ نگار

(ایم اے) مقالہ نگار— انیلہ عنبریں

کراچی: جامعہ کراچی غیرمطبوعہ

Categories