ڈاکٹراسلم فرخی از عرفان احمد

1942ء ’’سے آج 8 اکتوبر 2008ء تک میں نے سوائے ان دنوں کے (جب1947ء میں دلی سے بھارت کی طرف سفرکیا) کبھی ڈان کے مطالعہ کاناغہ نہیں کیا۔‘‘ یہ 15جون کی شام افطاری کے بعد جب کہ ملک کی مختلف قومیتوں کے بارے میں دوستوں کے ساتھ گفتگو ہورہی تھی توطمیں نے ڈاکٹرطاسلم فرخی کے جملے کاحوالہ دیا جو انھوں نے مجھے انٹرویو دیتے ہوئے بتایاتھا۔ عجیب اتفاق یہ ہوا کہ اس دوران جب میں نے اپنے موبائل سے فیس بک کو دیکھا تو ڈاکٹر صاحب کی خوب صورت تصویر سامنے آگئی اور ساتھ ان کے انتقال کی افسوس ناک خبر بھی۔ ایک دن پہلے ہی ڈاکٹرصاحب کے بارے پوچھا تھا۔ مجھے اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے یہ احساس موجود ہے کہ میں ڈاکٹر صاحب کی ذات سے اپنے مطالعاتی ذوق کے باوجود بہت تاخیر سے واقف ہوا۔ سلسلہ رشد و ہدایت کے نامور بزرگ ڈاکٹر غلام مصطفی خان صاحب کی رحلت پر موسیٰ بھٹو صاحِب نے اپنے رسالے بیداری میں کچھ مضامین شائع کئے جن میں ڈاکٹر اسلم فرخی صاحب کا مضمون بھی شامل تھا اس طرح ان سے تعارف ہوا اور جب ان کی تحریریں مطالعہ کیں تو مجھے حیرانی اور اپنی کم علمی کا احساس ہوا کہ میں اب تک ڈاکٹر صاحب سے ناواقف رہا۔ مجھے یاد ہے کہ سب سے پہلے مجھے آنگن میں ستارے پڑھنے کو ملی۔ بہت عمدہ نثر اور جملے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چلتے پھرتے کردار نگاہوں کے سامنے آگئے۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی تمام کتب ڈھونڈ کر پڑھیں۔ بالخصوص سات آسمان، موسم بہار جیسے لوگ، دبستان نظام اور حضرت نظام الدین اولیا کے بارے ان کی لکھی گئی دیگر کتب چھوٹے سائز میں، حضرت نظام الدین اولیا کا خاکہ بھی بہت کمال کی چیز ہے۔
2008ء میں جب میں مطالعاتی زندگی کے بارے پاکستان بھر کے دانش وروں اور نامور ادیبوں کے انٹرویوز کے لیے کراچی پہنچا تو ٹیلی فون پر ان سے بات ہوئی اور انھوں نے 8 اکتوبر کی شام عصر کے بعد مجھے وقت دیا اور میں کراچی یونی ورسٹی اسٹاف ٹاوٴن سے ان کے ہاں پہنچا۔
سفید براق لباس اور پرکشش خوب صورت شخصیت کے حامل ڈاکٹر اسلم فرخی صاحب نے بہت شفقت سے میرا استقبال کیا اور بہت ہی متوازن اور محتاط تبصروں کے ساتھ اپنا انٹرویو ریکارڈ کروایا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے ان سے اردو کے بڑے ناولوں پر تبصرہ کرنے کو کہا تو انھوں نے بہت خوب صورت انداز میں اپنے پسندیدہ ناولوں ’’آگ کا دریا، آنگن، اداس نسلیں، علی پور کا ایلی اور راجہ گدھ‘‘ کا تذکرہ کیا اور بالخصوص شمس الرحمن فاروقی کا کئی چاند تھے سرآسمان اور اپنے دینی مطالعہ میں مولانا امین احسن اصلاحی صاحب کی تدبیر القرآن اور ڈپٹی نذیر احمد کے مطالب القرآن کی بہت تعریف کی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی تفسیر کا بھی تذکرہ کیا۔ اس کے ساتھ غبار خاطر کو انھوں نے عمدہ ترین نثر کا نمونہ قرار دیا۔ مولانا مودودیؒ کے اسلوب کو انھوں نے سادہ اور پرکشش قرار دیا۔
سیرۃ النبیﷺ شبلی نعمانی ان کی پسندیدہ کتاب تھی۔ انھوں نے بتایا کہ سیرۃ النبیﷺ کاپہلا ایڈیشن بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ بڑے سائز کا یہ پہلا اور دوسرا ایڈیشن شائع ہوا تھا، اگرچہ اس سائز میں کتابیں شائع کرنے کا رواج نہیں ہے۔
ڈاکٹرصاحب کی تصوف سے دل چسپی بہت زیادہ تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اپنے نانا کی وجہ سے جنھیں بزرگان کرام سے بڑی دل چسپی تھی وہ بالعموم عرسوں میں شرکت کرے۔ تو اس طرح صوفیائے کرام سے دل چسپی پیدا ہوئی اور اسی بناء پر انھوں نے امیر خسرو کا خصوصی مطالعہ کیا۔ اس ذریعے حضرت نظام الدین اولیا اور خواجہ محبوب الٰہی کے بارے آگاہی ہوئی اور عقیدت کا سفر شروع ہوا، جس کی ایک یادگار دبستان نظام سے اور اس کے علاوہ حضرت نظام الدین اولیا پرکئی کتب اوراس کے ساتھ ساتھ درگاہ حضرت نظام الدین اولیا میں مسلسل سترہ سال حاضری۔ اپنی کتاب دبستان نظام کو اپنی زندگی کا حاصل قرار دیا بلکہ اس سلسلے میں ایک دل چسپ بات انھوں نے میرے بہاول نگر سے تعلق کی وجہ سے مجھے بتائی کہ میں آپ کے شہر بہاول نگر گیا ہوں، ہمارے ہاں بہاول نگر کے ایک نامور سیاسی راہ نما میاں محمد اکرم ایڈووکیٹ ہیں جو درگاہ حضرت نظام الدین اولیا میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ رہے اور ڈاکٹر صاحب ان سے ملاقات کے لیے اور اکٹھے سفرکے لیے کراچی سے بہاول نگر آئے اور پھر دونوں انڈیا گئے۔ یہ غالباً 1988ء کی بات تھی۔
شاعری سے دل چسپی کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ مجھے ہزاروں شعر زبانی یاد ہیں اس لیے آج بھی دوست احباب جب شعر کا کوئی مصرع بھولتے ہیں تو مجھے فون کرتے ہیں اور میں انھیں شعر بلکہ بعض اوقات پوری نظم یا غزل سنا دیتا ہوں۔ اپنی باقی زندگی کے لیے تین کتابوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے دیوان غالب اور فوائد الفواد (ملغوظات حضرت نظام الدین اولیا اور اپنی ذاتی کتاب دبستان نظام کا ذکر کیا۔
تاریخ کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ مسلمان ہی وہ قوم ہے کہ جس نے تاریخ کے علم کو علمی حیثیت دی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے پسندیدہ مصنفین میں محمد حسین آزاد، مشتاق احمد یوسفی، ڈپٹی نذیر احمد، محمد حسن عسکری اور شاہد احمد دہلوی کا ذکر کیا، اور افسانہ نگاروں میں انتظار حسین، احمد ندیم قاسمی، راجندر سنگھ بیدی۔
ڈاکٹر صاحب نے ریڈیو پر کام کیا اور وہاں بحثیت مسودہ نگار انھوں نے نظم اور نثرکا بہت سا کام کیا اور ایسے فیچرز کا ذکر کیا جو خود انھیں بڑے پسند تھے۔ یعنی رفیق رسالت کے نام سے انھوں نے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق پر کام کیا۔ واجد علی شاہ اور بہادرشاہ ظفر پر فیچر لکھے۔ علم اور مطالعے کا ذوق انھیں ورثے میں ملا تھا۔ وہ لکھنو میں 1928ء میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن فتح گڑھ ضلع فرخ آباد تھا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد درس و تدریس میں مصروف ہوگئے۔ کراچی کے مختلف کالجوں اور کراچی یونی ورسٹی میں پڑھایا اور ناظم شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ اور بطور رجسٹرار بھی کام کیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے قصبے کی مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری رہے اور ترقی پسند تحریک کے ساتھ وابستگی رہی۔ محمدحسین آزاد کی حیات اور تصانیف پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا یہ دو جلدوں میں تھا جس پر انھیں آدم جی ایوارڈ بھی ملا، انجمن ترقی اردو سے بھی وابستگی رہی، اردو یونی ورسٹی کی سینٹ کے ممبر بھی رہے، اور اردو یونی ورسٹی میں ایم ایس سی تک سائنسی درسی کتب لکھواتے رہے، محمدحسین آزاد ان کی دل چسپی کا خاص مرکزہ محور تھے، آب حیات اور نیرنگ خیال کے بارے انھوں نے فرمایا کہ میں نے یہ کتابیں شاید 50 بارپڑھی ہو، اسی طرح دربار اکبری بھی۔ ڈاکٹرصاحب کے صاحب زادے آصف فرخی بھی ڈاکٹرصاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ادب اور علم سے گہرا لگاوٴ رکھتے ہیں، افسانہ نگار، شاعر اور ایک اچھے مترجم کی حیثیت سے دنیائے اردو میں جانے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

ایک شجر سایہ دار۔ اسلم فرخی کی یاد میں

شائستہ زرّیں/راشد نور

ڈاکٹراسلم فرخی نے کہا تھا سارے دل ایک سے نہیں ہوتے فرق ہے کنگراورنگینے میں اورقدرت نے ڈاکٹرصاحب کونگینے جیسا دل عطا کیا تھا۔ حضرت سلطان جی کی روحانی قربت نے اس کو مزیدنکھارکے آپ کومنکسرالمزاج ہی نہیں بہت دلنوازبھی بنادیاتھا۔ اگرآپ کی علمی وادبی خدمات کا اجمالاجائزہ لیں تو آپ بحثیت محقق، نقاد، ادیب، شاعربہت کامیاب رہے۔ آپ جس بھی منصب پر فائز کیے گئے نہایت ایمانداری، جاں فشانی اورلگن سے اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔ جامعہ کراچی کے رجسٹرارکی حیثیت ہویاجامعہ کراچی کے شعبۂ تصنیف وتالیف میں مترجم، جامعہ اردوسے وابستگی ہویاانجمن ترقی اردوہرجگہ آپ نے بے مثال اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ بحثیت استادآپ ایک مثال تھے۔ اپنے شاگردوں کے لیے نہایت شفیق مگربااصول، غیرمعمولی ذہین اورمتین۔ عموماً سنجیدہ مزاج پروفیسر نہایت خشک مزاج اورشاگردوں سے فاصلہ رکھنے والے ہوتے ہیں لیکن اس کے برعکس ڈاکٹرصاحب اپنی تمام تربردباری اورمتانت سمیت شگفتہ مزاجی سے اپنے شاگردوں کے لیے شجرسایہ داربنے رہے۔ وضع داری آپ کی شخصیت کا خاصہ اورنفاست پسندی آپ کی طبعیت کاحصہ تھی۔ رہی بات تہذیب نفس کی توآپ تہذیب کامتحرک مرقع تھے۔
بدیہ گوئی میں آپ کوکمال حاصل تھا۔ شعرپڑھتے توشعر کا حق ادا کردیتے اوراپنے شاگردوں سے بھی یہی توقع رکھتے۔ جامعہ کراچی شعبۂ اردومیں بحثیت استاد آپ سے تعارف ہوا۔ پہلے ہی دن کلاس میں ڈاکٹرصاحب نے غالب کا شعر
بے نیازی حدسے گزری، بندہ پرورکب تلک ہم کہیں گے حال دل، آپ فرمائیں گے کیا کلاس میں موجودطلباء وطالبات سے باری باری پڑھنے کوکہا۔ مصرعہ اول میں استفہامیہ کیفیت جبکہ مصرعہ ثانی میں آپ فرمائیں گے کیا میں استفہام کے ساتھ جوبے نیازانہ رنگ تھا اسے محسوس کرکے جب اپنی باری پرمیں نے شعرپڑھا توڈاکٹر صاحب نے بہت سراہاڈاکٹرصاحب کی وہ حوصلہ افزاستائش میرے لیے کسی اعزازسے کم نہیں۔
پہلے سمسٹر کاڈاکٹرصاحب کا پہلا مڈٹرم ٹیسٹ تھا۔ آپ نے خطوط غالب کے حوالے سے تین سوال دے دیے۔ پرچہ صحیح طرح حل نہیں کرپائی تیاری مکمل تھی لیکن مجھ سے بھی وہی غلطی ہوگئی جواکثرطالب علم کرتے ہیں کہ سوال سمجھنے کی کوشش نہیں کی نتیجتاً تیس میں سے تیرہ نمبرآئے جومیرے لیے سخت ندامت کا باعث بنے۔ ایک ساتھی طالبہ نے اظہارہمدردی کرتے ہوئے کہا میں حرف بحرف لیکچرلکھتی ہوں اوراسلم فرخی چاہتے ہیں کہ ان کا لیکچرہی لکھاجائے آپ میری کاپی لے لیجیے۔ جی نہیں شکریہ۔ اوریہ محض آپ کا خیال ہے ڈاکٹرصاحب کی سوچ نہیں کہ کربات ختم کردی۔ نمبرتواوربھی کئی لوگوں کے کم آئے تھے لیکن ان کے لیے غنیمت تھے۔ میک اپ ٹیسٹ دینے کے لیے میرے علاوہ اورکوئی نہیں پہنچاتوڈاکٹرصاحب کوبڑی حیرت ہوئی۔ ڈاکٹرصاحب نے مجھے امتحانی پرچہ دیا اورمیں نے امتحان۔ امتحانی سوال پڑھے، سمجھے اورقلم اٹھالیا ڈاکٹرصاحب کے لیکچرکاحرف بحرف نہیں ہاں آپ کا پڑھایا اورسمجھایاہواپنے ہی الفاظ میں لکھ کرتیس میں سے اٹھائیس نمبرحاصل کرکے اپنی ساتھی طالبہ کا خیال قرار دے دیا۔ اگریہ میرے لیے خوشی کی بات تھی توڈاکٹرصاحب بھی خوش اورمطمئن تھے۔
صحافت کاسفرآغازکیا ایک سروے کے سلسلے میں رابطہ کیا آپ بہت خوش ہوئے۔ اس عرصے میں گاہے بگاہے ٹیلیفونک ملاقات ہوتی رہی لیکن بالمشافہ ملاقات نہ ہوسکی۔ گزشتہ چند ماہ سے ڈاکٹرصاحب سے فون پربھی رابطہ نہ رہا تھا، کبھی آپ کی اہلیہ تاج آپا سے اورکبھی آپ کی بھانجی روشی سے خیریت دریافت کرلیتی۔ اب یہ بات بھی تمام ہوا۔
اب جبکہ ڈاکٹرصاحب ہمارے درمیان نہیں لیکن آپ کی شفقت اورعلمی قوت آپ کے تمام شاگردوں کے ساتھ سفرکررہی ہیں اپنے شاگردوں کی کامیابی پرآپ کے چہرے پربکھرنے والی بھینی بھینی حوصلہ افزااورمطمئن مسکراہٹ کسی ٹانک سے کم نہیں۔ ایک اورشجرسایہ دار کے سرسے اٹھ جانے کا غم لفظوں میں کیسے بیان کیا جاسکتاہے؟ یہ چند شکستہ حرف ڈاکٹرصاحب کاحق ادا نہیں کرسکتے۔ اللہ ڈاکٹرصاحب کوحسن عاقبت سے سرفرازفرمائے آمین۔

پروفیسرسحرانصاری

میں نے اس بات کوہمیشہ ذہن میں رکھا تسلسل کے ساتھ کام کرنے کیلئے قدرت کی طرف سے عمربھی زیادہ ملنی چاہیئے اس اعتبارسے ڈاکٹراسلم فرخی نے طویل عمرپائی اورتاریخ ادب میں اپنے دیرپانقوش ثبت کردیئے۔ مجھے ان سے ذاتی طورپرقربتوں کاشرف حاصل رہا، سب سے زیادہ ملاقاتیں 74سے شروع ہوئی، جب میں نے شعبہ اردو کے ایک استادکی حثیت سے شمولیت اختیارکی۔ میرا کمرہ ڈاکٹراسلم فرخی کے کمرے سے ملا ہواتھا، کلاسوں سے فارغ ہوکربہت ساوقت ادبی اورعلمی گفتگو میں سرف کیا جاتا، اسلم صاحب کاحافظہ اوریادداشت غیرمعمولی تھی، انہیں فارسی اوراردو کے سینکڑوں اشعاریادتھے۔ فارسی اوراردو کے قصائص بلاتکان سناتے چلے جاتے تھے،ان کی گفتگوبہت مربوط اورمرتب ہوتی تھی‘ مزاج میں شوخی اوربزلہ سنجی بھی تھی، زورگوتھے اورکئی بارایسا ہوا کہ ہم دو کے علاوہ کوئی تیسرا بھی موجودہوتاباتیں کریں اوراسلم صاحب فوری طورپراسے نظم کردیتے تھے۔ محمدحسین آزادپران کاپی ایچ ڈی مقالہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کئی ادب پاروں کے ترجمے بھی کئے اورتسلسل کے ساتھ عمدہ قسم کے خاکے بھی لکھے وہ ایک براڈ کاسٹر، محقق، نقاد اورایسے استاد تھے کہ جنہیں رول ماڈل کے طورپرپیش کیا جاسکتا ہے۔ انہیں حضرت نظام الدین اولیاء سے خصوصی عقیدت تھی، نظام رنگ اوردبستان نظام جیسی کتابیں ان کی اس عقیدت کامظہرہیں۔ اسلم فرخی صاحب کو ایک عہد اورایک تاریخ سے تعبیرسے کیاجاسکتا ہے ان کی تحریراورشخصیت بہت نفیس تھی، خوش اخلاق اورخوش لباس انسان تھے، ان کی وفات سے تہذیب کا ایک دبستان رخصت ہوگیا۔

مسعوداحمدبرکاتی

ڈاکٹراسلم فرخی صاحب محض بڑوں کے ہی نہیں بلکہ بچوں کے بھی بہت بڑے اوربہت اچھے ادیب تھے۔ آپ نے بچوں کے لیے بہت لکھا۔ ہمدردفائونڈیشن نے بچوں کے لیے لکھی جانے والی آپ کی کچھ کتابیں شائع کیں۔ خاکہ نگاری میں آپ کو عبورحاصل تھا۔ انجمن ترقی اردو سے وابستہ رہے اوراس دوران آپ نے نہایت، لگن، مستعدی اورخوش اسلوبی سے انجمن کی بہت خدمت کی۔ آپ باعمل انسان تھے۔ انسان دوست تھے۔ بہت بڑے انسان تھے لوگوں سے مل کرخوش ہوتے تھے۔ نادرشخصیات میں سے ایک تھے۔ ایک بہت اچھے انسان اوردوست سے دائمی جدائی بہت بڑی محرومی ہے۔ اللہ آپ کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے آمین

ڈاکٹرپیرزادہ قاسم

ڈاکٹراسلم فرخی زبان اورادب کے ایک نمائندہ اوربڑے استادتھے۔ ان کی ادبی پیش رفت خواہ وہ نثری ہویاشعری ہمارے ادب کابڑا حوالہ ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ڈاکٹرصاحب جہاں زبان وادب کی بات کرتے ہیں وہاں وہ دراصل زبان وادب اورزندگی کی تہذیب کی بات کرتے ہیں، چنانچہ یہی مثبت پہلوان کی نثری تحریروں میں بہت نمایاں ہوکرسامنے آیا۔ پھریہ بھی ہے کہ اردوزبان وادب میں خاکہ نگاری کی جوروایت ہے اس میںڈاکٹراسلم فرخی آخری بڑا نام تھے اورآج ان جیسا خاکہ نگارنظرنہیں آتا۔ ان کی خاکہ نگاری کی خوبی یہ تھی کہ وہ شخصیت شناسی کے انتہائی پہلوئوں تک اپنی تحریروں کوپھیلاتے تھے اورنفسیات دفن کے ضابطوں کے ساتھ نہ صرف زندگی کی تصویرنظرآتی تھی بلکہ تفسیربھی ملتی تھی۔ ڈاکٹرصاحب کی ایک اورخاص بات جس نے انہیں بہت نمایاں رکھاوہ تصووف اورصاحبانِ طریقت کے متعلق ان کی تصنیفات ہیں۔ اس زمانے میں تصووف سے جڑے ہوئے اہل قلم حضرات میں وہ نمایاں ترین لوگوں میں شامل تھے۔ اللہ آپ کو اپنے جواررحمت میں جگہ دے آمین

زاہدہ حنا

نوعمری کے دن تھے جب ابا نے آب حیات لاکردیکھنے کوتاریخ ادب اردولیکن پڑھی تومحسوس ہوتا تھا کہ کوئی قصہ کہانی پڑھ رہی ہوں۔ میں ہزارجان سے اس پرعاشق ہوگئے اورمولانا محمدحسین آزادمیرے لیے ایک ایسے داستان گوکی حیثیت اختیارکرگئے جس نے کئی صدیوں کے شاعروں کوزندگہ کردیاتھا۔ جب آب حیات سے ایسا عشق ہوجس کے لکھنے والے نے دل میں ادب کاہفت رنگ بیج بودیا ہے اورسرنیرنگ خیال کی نیرنگوں نے جسے اس طرح اسیرکیا ہوکہ اگست ۱۹۸۸ء میں جب کالم لکھنا شروع کیا اسی رنگ میں داستان شہزادی انتخاب آراء کی لکھنے کی کوشش کی ہو۔
ڈاکٹراسلم فرخی لکھتے ہیں ’’آزادکوخاکہ نگاری میں وہ ملکہ حاصل تھا جسے منفرد اوربے مثال کہا جاسکتا ہے اورآزاد نے لفظوں سے ایسی موہنی تصویریں بنائی ہیں جوجیتی جاگتی، زندہ اورمتحرک ہیں‘‘ استاد سے دلی تعلق کے سبب شاگردنے بھی خاکہ نگاری اختیارکیا اورہمارے ادب کومنفرداسلوب کے خاکے نذرکیے ان کے خاکوں کی کتابیں آنگن میں ستارے، موسم بہارجیسے لوگ، گلدستۂ احباب اورلال سبزکبوتروں کی چھتری۔ یہ وہ مجموعے ہیں جوبہت دنوں تک یادرکھے جائیں گے لال سبزکبوتروں کی چھتری کے خاکوں نے لوگوں کے دل کومٹھی میںکرلیا۔ اسی طرح جیسے کبوترکے رسیاکسی چہیتے کبوترکواپنی مٹھی میں بھرلیتے ہیں خاکوں کے اس مجوعے کے بارے میں اسلم فرخی صاحب نے کہا’’اس مجموعے کے پانچ خاکے میرے شہرفتح گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ فتح گڑھ کے ضلع فرخ آباد میںتھا اورجسے لوگ پیارسے گڈاولڈ فتح گڑھ کہتے تھے‘‘
آزادنے ۱۹۱۰ء میں انتقال کیا تھا ان پر تحقیق وتفتیش کرنے والے اورڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے والے اسلم فرخی کوخیال آیا کہ روحانی استاد کی وفات کوایک صدی ہونے والی ہے توکیوں نہ آقائے اردواوراردوئے معلیٰ کے ہیرون کوایک یادگارکتاب نذرگزاردی جائے یہی سوچ کرانہوں نے اردوکے سب سے بڑے انشاء پروازکی وفات کے سوبرس پورے ہونے پرایک کتاب ’’نگارداستان آزاد‘‘ مرتب کی۔ جس میں ان کی زندگی کی جھلکیاں بھی ہیں اوران کی منتخب کتابوں سے انتخاب بھی پیش کیا گیا۔ اوراب چھ برس بعد آزادکے عاشق صادق خودآزادکے دربارمیں حاضرہوگئے، ڈاکٹراسلم فرخی کادنیا سے پردہ کرجانا دل پرشاق گزرا۔ میں بھی فاطمہ حسن اوردوسروں کی طرح ہراتواران کے گھرپرلگنے والے دربارمیں بارپاتی، چارحرف سیکھ کرہی اٹھتی لیکن کسی نہ کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہوسکا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مختلف محفلوں میں ان کے نیازحاصل ہوتے رہے۔ ڈاکٹراسلم فرخی کوصرف مولانا محمدآزادہی سے عشق نہیں تھا وہ حضرت نظام الدین اولیاء اورامیرخسروپربھی فداتھے۔ جب بھی ممکن ہوتا عرس پردلی جاتے اوردونوں کی خدمت میں حاضری دیتے۔ انہوں نے دبستان نظام، نظام رنگ اورسلطان جی ایسی کتابیں عقیدت کے قلم سے لکھیں۔ ڈاکٹراسلم فرخی جیسے عالم ہمارے سماج میں پہلے بھی کم تھے اب توناپیدہوتے جارہے ہیں۔ لفظوں سے یہ دلکش تصویریں کھینچنے والے ڈاکٹراسلم فرخی اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین

پروفیسرجاذب قریشی

وہ جوسائبان تھا نہیں رہا
اسلم فرخی بھی چلے گئے۔ شہرتہذیب کا ایک اوربہت منفردعلمی، تدریسی اورتخلیقی سائبان ٹوٹ گیا لیکن اسلم صاحب کی دانشوری کی اجلی پوشاکیں پہنے ہوئے لوگ ان کے ہنر کی تازہ آوازروں کے ساتھ سفرکررہے ہیں۔ اسلم صاحب کے ہزاروں طلباء وطالبات دنیا کے مختلف شہروں میں موجودہیں۔ اوراسلم صاحب سے سیکھے ہوئے لفظ ومعنی کے ساتھ زندگی کے ارتقامیں آگے بڑھ رہے ہیں، اسلم صاحِ کے پڑھانے کا اندازطلباء وطالبات کبھی نہیں بھول سکتے۔ وہ گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی کلاس میں داخل ہوتے، کرسی پربیٹھتے یاکبھی کھڑے رہتے اورایک لمحے کی تاخیر کے بغیرگفتگوکاآغازکردیتے۔ ہم سب طلباء وطالبات جانتے تھے کہ اسلم صاحب چاہتے ہیں کہ بغیرکسی رکاوٹ کے ہم سب اپنے پورے وجود کے ساتھ ان کی آوازمیں حل ہوجائیں تاکہ ہمیں وہ روشنی وہ ہنرمل جائے جو ہمارے عمل کوہمارے ذہن کواورہماری روح کودوڑتے ہوئے وقت کے ساتھ جوڑسکے۔
موجودہ آشوبی عہدکاسیلاب جس طرح خون کے رشتوں کوکاٹ کران کے ٹکڑے ٹکڑے کررہا ہے، انسانی تعلقات کوجس طرح توڑرہاہے۔ ایسی کوئی مثال پہلے نہیں ملتی مگراسلم صاحب اپنے عہد کے زندہ لوگوں کے درمیان علم کے چراغ اتارتے رہے اورتعلق کے ریشم سے جسم وجاں کوباندھتے رہے۔ اسلم صاحب کی خاکہ نگاری ہو، ان کی تنقید ہو، ان کاتدریسی اسلوب ہو، ان کی تہذیبی شخصیت ہویاان کاثقافتی رنگ ہوان کے سب ہی چلن منفرداورخوبصورت رہے۔ اسلم صاحب نے پوری زندگی اسلامی اقدارکواپنے سے جوڑنے میں گزاردی اورجاتے جاتے بھی اس شہرناپرساں کے کئی طلبگاروں کوپی ایچ ڈی کراگئے۔ اسلم صاحب نے توڑنے سے زیادہ جوڑنے کواہمیت دیا اورکمترچیزوں کواپنی بہت صورتگری کے ساتھ عام بنادیا۔ اس حوالے سے اسلم صاحب کے ساتھ میرے تین بہت اہم رشتے بنتے ہیں پہلے رشتے میں پچاس برس پہلے جامعہ کراچی میں ان کاطالب علم بنا، دوسرے رشتے میں میری بیٹی کے شوہرمنظراسلام کے سگے ماموں تھے اورتیسرے رشتے میں اسلم صاحب نے میری شاعری اورمیری تنقیدکوپڑھا اورمیرے لیے ’’علامتوں کاتخلیق کار‘‘ جیسا مضمون لکھا جومیری زندگی کر بڑے اعزازات میں سے ایک منفرد اعزازبن کرشامل ہے۔

ڈاکٹرفاطمہ حسن

ڈاکٹراسلم فرخی کی طبعیت میں بزلہ سخی بہت تھی اورفی البدیہہ مصرعے لگادیتے تھے ان کی یادداشت بہت اچھی تھی‘ شاگردوں سے ان کی غیرمعمولی شفقت تھی‘ اگرانہوں نے کسی کوشاگردی کے لئے قبول کرلیا تو اس کا مسئلہ ان کا مسئلہ ہوجاتا تھا‘ اتنی ذاتی دلچسپی سے پڑھاتے تھے‘ میں ہرجمعرات کو اپنا چپٹربھیجتی تھی وہ اتوارکوپڑھ کر واپس کرتے تھے،کم ہی کانٹ چھانٹ کرتے تھے‘ وہ اس طرح تجویزکرتے تھے کہ کوئی بات گراں نہ گزرے وہ ہمیں ایک طرح نگرانی میں رکھتے تھے۔ اسکول کے بچوں کی طرح نہیں وہ دیکھتے تھے کہ تحقیق کاجودائرہ ہے میں اس میں رہ کرلکھ رہی ہوں۔ یہ بہت بڑی خوبی ہے کسی بھی گائیڈ کی کہ تحقیقی مقالہ جمع کرانے اورنتیجہ آنے تک فکرمندرہتے تھے‘ نرگس بانوآخری شاگردنے اداجعفری پرپی ایچ ڈی کیاہے‘ دوماہ قبل انہوں نے اداجعفری پرپی ایچ ڈی کیاہے‘ دوماہ قبل انہوں نے اس کاوائے وائے لیا کیونکہ ان کی صحت خراب تھی‘ اس لئے گھر پراردویونیورسٹی نے ارینج کردیاتھا، ڈاکٹرصاحب کے بعدتحقیق میں بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا ہے ان کامطالعہ اوریادداشت غیرمعمولی تھی‘ آخرعمرتک یادداشت متاثرنہیں ہوئی‘ ان کومرزا دبیرکے مرثیے کے بندیادتھے‘ کس شاعرکاذکرکردیںوہ شاعرادیب کاانسائیکلوپیڈیاتھے‘ میں اتوارکوان کے گھرجایاکرتی تھی وہ زندگی کے تجربے اورریڈیو کے حوالے سے واقعات سناتے تھے‘ اس عہد کوان کی خاکہ نگاری سے پہنچاناجائے گا‘ وہ گفتگومیں بھی خاکے پیش دیتے تھے۔ مجھے انہوں نے بیٹی بنایا اورہمیشہ بیٹی ہی سمجھااورکبھی میری بات نہیں ٹالی۔

ڈاکٹرآصف فرخی

میرے لیے اس وقت معروضی طورپرگفتگوکرنا ذرا مشکل ہے میں ذاتی تاثرہی بیان کرسکتا ہوں۔ڈاکٹراسلم فرخی میرے لئے ناصرف والدبلکہ رہنما اورقریبی دوست کی حیثیت بھی رکھتے تھے ان کی گفتگو میرے لئے بڑا سرمایہ حیات ہے۔ وہ گھنٹوں ادب کے بارے میں گفتگوکرتے شعرپڑھتے علمی نکتے بیان کرتے اس کے ساتھ ساتھ مجھے یہ بھی احساس ہے کہ وہ ایک ادبی ہی نہیں تہذیبی شخصیت بھی تھے ان کیلئے اقدارکی بڑی اہمیت تھی‘ ان کاجھکائوتصوف اورروحانیت کی طرف تھا مگروہ احترام آدمی کوفوقیت دیتے تھے۔ ان کی غیرمعمولی صفت ان کاحافظہ تھا جس میں پرانی باتیں اورواقعات روز روشن کی طرح واضح تھے۔

ڈاکٹر اسلم فرخی از محمد حمید شاہد

جب سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا عام ہوا ہے ، اِدھرُ ادھر کی اچھی بری اور کچی پکی خبریں جھٹ سے وہاں چڑھا دی جاتی ہیں ۔ اب یہ آپ کی ذمے داری ہے کہ ان خبروں کی تصدیق کرتے پھریں ۔ ڈاکٹر اسلم فرخی کی رحلت کی خبر مجھے اس وسیلے سے ملی تو اس پر یقین کرنے سے پہلے میں نے جھٹ آصف فرخی کو فون ملالیا ۔ آصف فرخی کی سسکیوں میں ڈوبی ہوئی آواز سے ہی مجھے یقین ہو گیا تھا کہ ایک عالم ادیب ، ایک خوب صورت نثر لکھنے والااور ادب کی اپنی تہذیب کا سچا نمائندہ اس دنیا میں نہیں رہاتھا ۔ آصف فرخی اپنے باپ کی ادبی وراثت کے امین ہیں جب بھی ہمارا ملنا ہوتا ان کے والد صاحب کا ذکر بیچ میں ضرور آتا ، جس روز آصف اپنے والد صاحب کی رحلت کی خبر کی تصدیق کر رہے تھے ، اُنہی لمحوں میں ،جن اُنہوں نے یہ کہا تھاکہ’’ وہ تو آپ کو بہت پسند کرتے تھے ‘‘ تو یقین جانیے کہ میں اپنے آپ کو دُنیا کے خوش قسمت ترین اِنسانوں میں سے ایک سمجھنے لگا تھا ۔ یہ اطلاع میرے لیے نئی نہ تھی کہ انہوں نے میرے افسانوں کی ایک کتاب پر بہت محبت سے لکھا تھا مگر ایسا ان کے ادیب بیٹے سے سننا میرے بدن میں عجب سنسی سی بھر گیا تھا ۔
شاید اِس واقعے کو تیس سال ہو چکے ہوں گے کہ میں کراچی میں اُن کی رہائش گاہ پر اُنہیں دیکھنے گیا تھا ۔ اس کے بعد بھی کئی مواقع نکلے مگر جس اسلم فرخی سے میری ملاقات اُن کی نثر کے ذریعے ہوئی وہ یوں لگتا ہے مسلسل میرے وجود میں حاضر رہتے ہیں ۔ یہ نثر بنا بنا کر نہیں لکھی گئی ہے، یہ تو ایک تہذیبی وجود کی عطا ہے ۔ ذرا دھیان میں لائیے ان کے خاکوں کی کتابیں ۔ مگر ٹھہریے ،پہلے ان کی، اس کتاب کا ذکر ہو جائے ، جس میں انہوں نے سات کلاسیکی شعراء کی زندگیوں اور فن کا زائچہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ ہم ایک ایک شاعر کا تذکرہ پڑھتے ہیں اور لگتا ہے جیسے لپک کر ان بڑے شاعروں کے زمانے میں پہنچ گئے ہوں ۔ جی، میں’’ سات آسمان‘‘ کی بات کر رہاہوں جس میں میر تقی میر، مرزا محمد رفیع سودا، خواجہ میردرد، غلام ہمدانی مصحفی ، خواجہ حیدر علی آتش، شیخ امام بخش ناسخ اورمحمد ابراہیم ذوق جیسے کلاسیکی شاعروں پر بات کی گئی ہے ۔جس ڈھنگ اور قرینے سے اُنہوں نے ان بڑے شاعروں کی زندگیوں کو لکھا ہے ، ان کے مزاجوں کو آنکا ہے اور ان کے فن کی تعبیر کی ہے ،یہ کچھ انہی کا حصہ ہے ۔ آغاز یوں ہوتا ہے جیسے آپ ایک کہانی پڑھنے چلے ہوں اور جب یہ کہانیاں قاری کی توجہ ہتھیا لیتی ہیں تو ڈاکٹراسلم فرخی شخصیت کے فنی بھید بھنوراُس پر کھولتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً دیکھیے، میر تقی میرکا ذکر ہو رہا ہے ، اس خدائے سخن کی زندگی کے نشیب و فراز بتائے جارہے ہیں اور جنوں کا ذکر بھی ہوتا ہے جو میر کو وراثت میں ملا۔ یہیں وہ اُن کے فن کی تعیین قدر یوں کرتے ہیں :
’’اردو شاعری میں خدائے سخن ایک ہی ہے اور وہ محمد تقی میر ہیں ۔ وحدت میں جس کی حرف دوئی کا نہ آ سکے ۔میر کو یہ رتبہ کیسے حاصل ہوا ، یہ بات غور طلب ہے اور اسی غور و فکر سے ہمیں اپنے سوال کا جواب مل جائے گا ۔ مگر اس غورو فکر کا محور میر کی شاعری ہے اور کسی حد تک ان کی شخصیت بھی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے مل جل کر تخلیق کی سطح پر ، پھر معنویت کی ایک نئی دنیا پیش کرتے ہیں۔ ‘‘
خواجہ حیدر علی آتش کا ذکرکرنے بیٹھے تو اُنہوں نے لکھا :
’’اولیت خیال و فکر کو ہے ، بندش الفاظ اور مرصع سازی اس کے بعد ۔ پہلے خیال، تاثر،تجربہ،واردات، پھر فکر کی آمیزش سے اس کی تراش خراش ، یافت اور بازیافت ۔ اس کے بعد لفظیات کا مرحلہ ، جہاں بندش الفاظ میں مرصع سازی کے سارے لوازم ملحوظ رکھناپڑتے ہیں ۔نہ داری اسی سے پیدا ہوتی ہے ۔‘‘
اچھا، یوں بھی ہے کہ ڈاکٹرصاحب شاعری کے ان روشن میناروں سے ملانے محض ہمیں اُن کے زمانے میں لے جاکر ایک طرف نہیں ہو جاتے ، اپنے زمانے کا چلن بھی دیکھتے رہے ہیں اور اسے کلاسیک سے جوڑ کر ایک تسلسل میں دیکھتے رہے ہیں ۔ آتش ہی کا ذکر کرتے ہوئے جن اُنہوں نے اغل بغل دیکھا تھا تو یہ بھی صاف صاف لکھ دیا تھا:
’’ہمارے عہد کے فن کار نے محرومی کو تلخی اور تلخ کلامی میں سمو دیا ہے ۔ مگر اس عہد میں بھی یگانہ، مصطفے زیدی، اور سلیم احمد کی آواز میں آتش کے لہجے کی گونج بہت واضح ہے ۔ نئے شاعروں نے آتش سے اکتساب نہ کرکے اپنا نقصان کیا کہ آتش’’اس کا کتا ہرن سے بہتر ہے‘‘ کہنے کے باوجود اردو غزل کو نیا لہجہ دے گئے ،نیا آہنگ دے گئے ۔‘‘
ڈاکٹر صاحب کے مطابق شاعری کی کلاسیکی روایت کے سات آسمانوں میں سے ایک آسمان شیخ امام بخش ناسخ بھی تھے، ان کا ذکر آیا تو اسلم فرخی نے بتایا کہ اردو کی قدیم شاعری کے حوالے سے بعض اصطلاحیں بڑی بے تکلفی سے استعمال ہوتی ہیں ،مضمون آفرینی، خیال بندی، نازک خیالی ، نیا مضمون پیدا کرنا ، خیال کا طلسم باندھنا ، خیال کی نزاکت، یہ ساری اصطلاحیں ناسخ کے یہاں معراج فن کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہیں وہ بہ اصرار کہتے ہیں :
’’ کوئی مانے نہ مانے ناسخ نے شاعروں کو ایک نیا راستہ دکھایا اور بعد میں آنے والے شاعروں کے لیے اپنے شاداب تخیل ، لفظی رعایتوں، خیالی تشبیہوں ، حسن بے حجاب کی کھلی ڈلی تصویروں ،صنعت گری اور اخلاقی مضامین کی وجہ سے ایک مثال اور نمونہ فراہم کر گئے ۔‘‘
ڈاکٹر صاحب نے لگ بھگ 92 برس عمر پائی ، ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیم کے زمانے میں فرخ آباد سے اِدھر کراچی اُٹھ آئے اور لگتا ہے اپنا فرخ آباد بھی ساتھ اٹھا لائے تھے۔ اپنے گھر میں ادبی روایت کو قائم رکھا اور اپنی اولاد میں ادبی ذوق کو منتقل کیا ۔ کراچی یونیورسٹی سے منسلک رہے وہاں رجسٹرار کے طور پر بھی کام کیا۔انجمن ترقی اُردو پاکستان میں مشیر علمی ا ادبی کے فرائض سر انجام دیئے ۔ ریڈیو پر بھی پروگرام کرتے رہے۔ شاعری کی، خاکے لکھے اور بچوں کے لیے بہت لائق توجہ کام کیا ۔ تصوف سے رغبت رہی اور اس باب میں بھی ان کا بہت اہم کام ہے ۔لطف یہ کہ اس سارے عرصے میں ان کی توجہ اپنے کام پر رہی ، وہ جو کہتے ہیں شخصیت کا مِٹا ہوا ہونا ، تو وہ ایسے ہی تھے ۔ ان کے اس شعر میں ان کی شخصیت کو تلاش کیا جا سکتا ہے:
کیوں گوشہ خلوت سے نکلتے نہیں اسلم
بیٹھے ہیں جدھر لوگ اُدھر کیوں نہیں جاتے
تو یوں ہے کہ وہ بھیڑ بھڑکے کے آدمی نہ تھے، کتاب اور لفظ سے محبت کرتے اور اسی سے رشتہ نبھاتے رہے ۔شاعری کا ذکر آیا تو ڈاکٹر صاحب کی غزل سے دو شعر اوریاد آگئے ہیں ، وہ بھی عرض کیے دیتا ہوں :
زد پہ آجائے گا جو کوئی تو مر جائے گا
وقت کا کام گزرنا ہے گزر جائے گا
۔۔۔۔۔
آگ سی لگ رہی ہے سینے میں
اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں
یاد آتا ہے میر کے حوالے سے ہی ڈاکٹر صاحب نے’’سات آسمان‘‘ میں لکھا تھا:
’’میر نے محبت کی بے زبانی کو زبان عطا کی ہے ۔ محبت کا نغمہ ہر شاعر نے چھیڑا ہے لیکن میر کی محبت رسمی اور محدود نہیں ۔یہ ان کے وجود کا بنیادی عنصر ہے ۔ ان کے رگ و پے میں رواں دواں ہے ۔ محبت ان کی فکر ان کا ذہن ان کا دل ، ان کی روح ہے’’محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نور۔ نہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور ‘‘اس محبت میں بے راہ روی نہیں ، باغیانہ جوش نہیں ، نرمی اور دھیما پن ہے ۔ جذبہ تعمیر اور بہتر انسانیت کی تشکیل کا حوصلہ ہے ۔ ‘‘
محبت کے اسی وفور نے اگر میر صاحب کو خدائے سخن بنایاتھا تو یہی محبت کا وفور ان کی شخصیت کو باوقار بنا گیا ہے۔ میں اس وفور کو اگر ایک طرف میں ’’نظام رنگ ‘‘،’’ فریدوفرد فرید‘‘،’’فرمایا سلطان جی نے‘‘،’’بچوں کے سلطان جی‘‘،’’فرمایا خواجہ غریب نواز نے‘‘ وغیرہ جیسی کتابوں سے اُمنڈتا برستا دیکھ سکتا ہوں تو دوسری طرف ’’محمد حسین آزاد،شخصیت و فن‘‘ میں یا پھر ان کی لکھی ہوئی خاکوں کی کتابوں میں ، جیاس باب میں’’گلدستہ احباب‘‘،’’آنگن میں ستارے‘‘،’’لال سبز کبوتروں کی چھتری‘‘اور’’رونق بزم جہاں‘‘ جیسی کتابوں کی معروف غیر معروف شخصیات کو یاد کیجئے ، وہ ساری زندگی ،جو ان شخصیات نے جھیلی آپ کی حسیات کا حصہ ہو جائے گی ۔ کہنے کو یہ خاکوں کی کتابیں ہیں مگر کہیں بھی شخصیت کی خاک نہیں بکھیری گئی ، زندگی کو گفتنی نا گفتنی سارے پہلوؤں سے لکھا گیا ہے مگر لفظ لفظ محبت سے لکھا گیا ہے یوں کہ آس پاس کا منظر بھی اس محبت کی خوشبو سے مہکنے لگتا ہے ۔
میں نے ان کتب کو بھی دیکھا ہے جو ڈاکٹر صاحب نے بچوں کے لیے لکھیں جن میں سے ایک کا ذکر اوپر ہو چکا اور آپ نے اس سے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ کہ جن سے ڈاکٹر صاحب خود محبت کے رشتے میں بندھے ہوئے تھے ، ان کی محبت کی مہک نئے زمانے کے بچوں کو بھی منتقل کرنا چاہتے تھے۔’’بچوں کے مرزا غالب‘‘،’’بچوں کے مولانا شبلی نعمانی‘‘،’’بچوں کے مولانا حسرت موہانی‘‘اور’’بچوں کے ڈپٹی نذیر احمد‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ڈپٹی نذیر احمد کے باب میں ڈاکٹر صاحب نے بچوں کو بتایا تھا:
’’نذیر احمد کی زندگی ذاتی محنت ،مسلسل محنت، کوشش اور جدوجہد کا بڑا اچھا نمونہ ہے ، وہ طالب علم جو اپنے نام کے ساتھ شوقیہ ڈپٹی کلکٹر لکھا کرتا تھا ، نہ صرف ڈپٹی کلکٹر ہوا بلکہ ڈپٹی کالفظ اس کے نام کے ساتھ ایسا چپکا کہ آج بھی انہیں صرف نذیر احمد نہیں ، ڈپٹی نذیر احمد کہا اور لکھا جاتا ہے ۔‘‘
یہ تھا طریقہ ڈاکٹر صاحب کا کہ شخصیات کا بتاتے بتاتے اُن میں آگے بڑھنے کا حوصلہ اور کچھ کر لینے کی للک بھی پیدا کر دیتے تھے ۔ اسی سلسلے کی ایک اور کتاب ہے ’’بچوں کے رنگا رنگ خسرو‘‘ اس کتاب کے ذریعے ایک مقام پر ڈاکٹر صاحب نے بچوں کے اندر صبر کی قوت پر ایمان مستحکم کرنے کے لیے وہ واقعہ بہت دلنشین انداز میں بیان کیا ہے جس کے مطابق تاتاریوں کے حملے میں خسرو کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔تاتاری اُنہیں گھوڑے کے ساتھ باندھ کر گھسیٹتے ہیں ۔ گھوڑا دوڑ رہا ہے ۔ گرمی کا موسم ہے ، اُوپر سے آگ برس رہی ہے، نیچے زمین تپ رہی ہے اور خسرو کا سارا بدن چھل گیا ہے۔ بیابان میں گھوڑا دوڑتاہوا ایک چشمے تک پہنچا ہے۔ تب تک تاتاری گھڑ سوار اور اُس کا گھوڑ ا پیاس سے نڈھال ہو چکے ہیں ۔ لہذا وہ پانی پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے لکھا کہ خسرو کو بھی پیاس نے ستا رکھا تھا مگر انہوں نے نے صبر کیا۔وہ جانتے تھے کہ فوراً ہی پانی پر ٹوٹ نہیں پڑتے ، نقصان ہوتا ہے ، گرمی سے ہونکتا سوار اور گھوڑاپانی پیتے پیتے اوندھے جا گرے، دونوں کا کام تمام ہوا خسرو غلام ہونے سے بچ گئے ۔ تو یوں ہے کہ جو بھی بچہ اس واقعے کو پڑھتا ہے اس کا تعارف صبر کی بے پناہ قوت سے ہوتا ہے۔
یہاں تک پہنچا ہوں توڈاکٹر اسلم فرخی کی ایک اور کتاب’’صاحب جی،سلطان جی‘‘ یاد آگئی ہے ۔ اس کتاب میں ڈاکٹر صاحب نے حضرت سلطان المشائخ نظام الدین اولیا اور سلاطین دہلی کے تعلقات کا جائزہ لیا ہے ۔ ایک مقام پر انہوں نے شیخ سعدی کا قول مقتبس کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’ دس درویش ایک کملی میں گزارا کر سکتے ہیں لیکن دو بادشاہ ایک ملک میں نہیں رہ سکتے ۔‘ وہ مزید لکھتے ہیں :’’ اقتدار کسی اُبھرتے ،ترقی کرتے ، دلیر اور حوصلہ مند کو اپنے مقابل گوارا نہیں کرتا ۔ اقتدار میں ایسا نشہ ایسا سرورایسی کیفیت ہے کہ باپ بیٹے کو ، بیٹا باپ کو ، بھائی بھائی کو ، بھتیجا چچا کو ، چچا بھتیجے کو راستے سے ہٹانے میں کوئی تامل نہیں کرتا۔ ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا سکتا ہے ، گردانیں مار سکتا ہے ۔تو ایسے میں جو دلوں کو فتح کرلے ان کے ساتھ سلاطین کے تعلقات کیسے ہوں گے ۔‘‘ در بار اور خانقاہ کی یہی کشمکش اس کتاب کا موضوع بنی اور ہمیں بہت کچھ سجھا گئی ہے۔ آخر میں ڈاکٹر صاحب کی غزل سے ایک اور شعر:
ہنگامہ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے
رستے میں کھڑے ہوگئے ، گھر کیوں نہیں جاتے
ڈاکٹر صاحب ساری عمر علم اور ادب سے جڑے رہے ، مگر ایک وقت آتا ہے کہ ہنگامہ ہستی سے گزرجانا پڑتا ہے اور اُنہیں بھی گزرنا پڑا۔