ممتازادیب ڈاکٹراسلم فرّخی کے ساتھ معاشرتی وادبی پہلوؤں پرگفتگو

ڈاکٹراسلم فرّخی 23اکتوبر1924ء کولکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کا وطن ضلع فرّخ آبادکاصدرمقام فتح گڑھ تھا، جہاں انہوں نے لڑکپن اورجوانی گزاری۔ آپ ستمبر1948ء میں کراچی آگئے۔ یہاں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اورپی پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ روزنامہ ’’آج کل‘‘ کے لیے ڈاکٹراسلم فرّخی کے ساتھ کی جانے والی گفتگو میں اہم ادبی امورزیربحث آئے۔ یہ بات چیت قارئین کے ذوق مطالعہ کی نذرکی جارہی ہے۔
آج کل: ہمارے ادیب میں تخلیق کی لگن کے بجائے رویّے میں بناوٹ کااضافہ ہوا ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟
اسلم فرّخی: اس وقت تقریباً پورامعاشرہ منافقانہ رویّے کاحامل ہے۔ یہ کیفیت پہلے کبھی نہ تھی، لیکن آج پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں ہے۔ لوگ آپ کے سامنے تعریف کریں گے اورپیٹھ پیچھے برا کہیں گے، جس کو اچھاکہیں گے، اس کو بھی دل سے تسلیم نہیں کریں گے۔ اس رویّے کے مقابلے میںصداقت اورسادگی کاپلّہ بھاری ہے اورجولوگ اس رویّے سے خودکوبچاکررکھتے ہیں، وہ دوسروں سے ممتازہوجاتے ہیں۔ آپ کواب خالدعلیگ جیساشاعرکم ملتاہے، کیونکہ اس کے ہاں یہ منافقانہ رویّہ نہیں تھا۔ وہ بہت سیدھا اورسچافن کارتھا۔ فن کی ہرسطح پرسچ لکھتا تھا۔ آپ نے دیکھا کہ خالدعلیگ نے اپنی زندگی میں کیسی تگ ودوکی، اب ایسے لوگ کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اہل قلم اچھاکام کررہے ہیں، مگرعمومی طورپرہمیں منافقانہ رویّہ دیکھنے کوملے گا۔
آج کل: پاکستان کی مختلف حکومتوں نے ادب کے فروغ کے لیے جواقدامات کیے، ان کوآپ کس نظرسے دیکھتے ہیں؟
اسلم فرخی: ہمیں پہلے حکومتوں کی پالیسی اورانتظامیہ کے سیاسی رجحانات کا جائزہ لینا ہوگا۔ حکومتوں نے کبھی ادیبوں کی سرپرستی نہیں کی۔
آج کل: آپ نے شیخ نظام الدّین اولیاءؒ اوتصّوف پرچھ تصانیف مرتب کیں، تصّوف کی طرف آنے کارجحان کیسے پروان چڑھا؟
اسلم فرّخی: میرا گھرانہ زرخیزعلمی وادبی پس منظررکھتا تھا اورجہاں تک میری بات ہے تومجھے پاکستان آنے تک صوفیائے کرام سے کوئی گہری عقیدت نہیں تھی، لیکن جب میں نے امیرخسروؒ کے حوالے سے شیخ نظام الدّین اولیاء ؒ کے حالات زندگی کامطالعہ کیا تومجھے ان کی ذات میں ایک کشش محسوس ہوئی۔ ان کے بارے میں اردوفارسی اورانگریزی میں جو کچھ لکھا ہواملا وہ میں نے پڑھا۔ پھرمیں نے ان پر ایک خاکہ لکھا، جس کا عنوان ’’نظام رنگ‘‘ تھا۔ میرے اس خاکے پرایک صحافی دوست، نصر اللہ خان نے تبصرہ کیا کہ امیرخسروؒ سے ملاقات ہوتومیں ان سے پوچھوں گاکہ یہ لڑکاکہاں چھپا ہوا تھا، آپ نے کہیں اس کاتذکرہ نہیں کیا اورایسالگتا ہے کہ یہ کہیں آپ کے آس پاس ہی تھا۔ اگرمجھ سے پوچھاجائے کہ آپ کا حاصل زندگی کیا ہے؟ تومیں کہوں گا کہ میرا حاصلِ زندگی ’’دبستان نظام‘‘ ہے، جو کتابی صورت میں، میں نے تحریرکی۔
آج کل: آپ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’محمدحسین آزاد۔ حیات وتصانیف‘‘ تھا۔ ان کی شخصیت اورکام پرلکھنے کاخیال کیسے آیا؟
اسلم فرّخی: بچپن میں ’’نیرنگِ خیال‘‘ سے بہت رغبت تھی اورجب آزادپرکام کرنے کاموقع ملا توان پرکام کرنا میرے مزاج کے مطابق تھا۔ اس لیے میں نے ان پرلکھا۔
آج کل: آپ تدریس سے بھی وابستہ رہے، موجودہ دورمیں آپ اساتذہ کے طلبہ سے رویّے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
اسلم فرّخی: میں نے اپنے 40سالہ تدریسی تجربے میں کبھی طالب علم کواونچی آوازمیں بات کرتے نہیں دیکھا اورنہ ہی استادکاطلبہ کے ساتھ غلط رویّہ رہا ہے۔ استاد تو وہ ہوتا ہے جوبغیر معاوضے کی توقع کے شاگردکوعلم سے فیض یاب کرتا رہے۔
آج کل: آپ نے شاعری بھی کی، مگروہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوئی، اس کی کیا وجہ ہے؟
اسلم فرّخی: میری ادبی زندگی کی ابتدا شاعری ہی سے ہوئی، میںنے 1942ء میں لکھنا شروع کیا اورپھرمستقل لکھنے لگا۔ ترقی پسند سوچ کے تحت بہت لکھا۔ میری شاعری مختلف رسائل وجرائدمیںشائع ہوتی رہی، مگر کوئی مجوعہ مرتّب نہ ہوسکا۔ کراچی آکرریڈیوسے وابستگی ہوگئی اوریہاں میرے فرائض منصبی میں غزلیں، غنائیے، گیت اورنظمیں لکھنا شامل تھا، کیونکہ میں موسیقی کے شعبے سے وابستہ تھا، لہٰذا ریڈیومیں رہتے ہوئے بہت کچھ لکھناپڑتاتھا۔ میں نے تقریریں اورڈرامے بھی لکھے۔ لیکن شاعری نثرکے مقابلے میں ثانوی ہی رہی۔
آج کل: ریڈیومیں آپ نے جوکچھ بھی لکھا، وہ مرتّب نہیں کیا؟
اسلم فرّخی: نہیں۔ ریڈیومیں لوگوں نے بہت کام کیا، اگروہ سب محفوظ کیاجاتا، توایک بہت بڑا علمی وادبی اثاثہ ہوتا۔ ابھی میرے ایک شاگرد نے’’ریڈیو پاکستان کراچی کے پچاس سالہ علمی وادبی اورتدریسی پروگراموں کا جائزہ‘‘ اپنے پی ایچ ڈی مقالہ میں لکھا ہے، جو بہت جلدچھپ جائے گا۔ اس کوپڑھ کر اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ ریڈیوکتنا بڑاعلمی، ادبی مرکزتھا اورکتنا ادبی سرمایہ تھا، جوضائع ہوگیا۔
آج کل: ترقّی پسند تحریک کے کردارکوادب میں آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
اسلم فرّخی: ترقّی پسند تحریک نے ادب پر بڑے خوشگواراثرات مرتّب کیے ہیں۔ ادب کو ایک حوصلہ دیا، منافقانہ رویّوں کی نفی اورحق بات کہنے کی روایت ڈالی۔ ترقّی پسندادب نے شاعروں اورادیبوں کوبہت فائدہ پہنچایا۔
آج کل: یہ تحریک موجودہ دورمیںدم کیوں توڑگئی اوریہ بھی بتائے کہ آپ سجادظہیرسے کبھی ملے؟
اسلم فرّخی: جب تک اس کی افادیت اورضرورت تھی، یہ قائم رہی اورپھر رویّوں میں تبدیلی ہوئی تو یہ بھی ختم ہوگئی اورجہاں تک سجادظہیر سے ملاقات کی بات ہے تومجھے ایک دوملاقاتوں کا اتفاق رہا، مگرزیادہ میل جول نہیں رہا۔
آج کل: آپ نے ادب کے کئی درخشاں عہددیکھے۔ آپ کی کن ادباء سے زیادہ قربت رہی؟
اسلم فرّخی: ریڈیومیں تومیرے ساتھ شاہداحمددہلوی تھے اورمیرے دوستوں اوررفقائے کارمیں ارم لکھنوی، شان الحق حقّی، سیماب اکبرآبادی، مولاناراشداظہری، ممتازشیریں اوراستادقمرجلالوی تھے۔ کراچی میں شایدہی کوئی ادیب ہوگا، جس سے میری ذاتی شناسائی نہ ہو۔ اسی طرح مولانا عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت احمدندیم قاسمی، فیض احمد فیض اورزیڈاے بخاری سے بھی ملاقاتیں رہیں۔
آج کل: نئے لکھنے والوں سے آپ کیاامید رکھتے ہیں؟
اسلم فرّخی: نئے لکھنے والوں سے میں بہترمستقبل کی امیدرکھتا ہوں، کیونکہ نوجوان ہی اپنی تحریروں سے ادب کامستقبل تبدیل کرتے ہیں۔
میں کسی نئے لکھنے ولے کویہ مشورہ نہیں دے سکتا کہ وہ اپنی تحریروں کو کیسے بہترکرے، کیونکہ لکھنے والا اپنے اندرکی کیفیت لکھتا ہے۔ لکھنے والا اپنا مصلح، ناقداورمشیرخودہوتاہے۔
آج کل: آپ ناول اورافسانے کی طرف باقاعدہ کیوں نہیں آئے؟
اسلم فرّخی: میں نے شاعری کے ساتھ ابتدائی زمانے میں افسانے بھی لکھے، جو ہندوستان اورپاکستان کے مختلف ادبی جرائد میں شائع بھی ہوئے، پھرمیری توجّہ ادھرسے ہٹ گئی اور اس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔
آج کل: آپ کوکتنے اعزازات ملے؟
اسلم فرّخی: مجھے اسی سال حکومتِ پاکستان کی طرف سے ’’پرائڈ آف پرفارمنس‘‘ ملا ہے، اس کے علاوہ رائٹرزگلڈکا ’’داؤدادبی ایوارڈ‘‘ اور’’مولوی عبدالحق ایوارڈ‘‘ بھی ملا ہے۔
آج کل: ہجرت کاتجربہ کیسارہا؟
اسلم فرّخی: ستمبر1948ء میں کراچی آیا، جب یہ شہرویران تھا۔ صدرجیسا علاقہ آدمیوں سے خالی تھا۔ اس وقت ہندوستان سے لّٹے پِٹے قافلے پاکستان پہنچ رہے تھے۔ اکتوبر1948ء میں جب میں ملیر کی طرف گیا، تو اس علاقے کی ویرانی دیکھ کرخوف آتا تھا۔ میں نے کئی برس تک پاکستان چوک کے ایک فلیٹ میں 14افراد کے ساتھ زندگی بسرکی، لیکن کسی کے لبوںپربھی شکایت نہ تھی۔ روزگارکے مواقع کم تھے۔ ایک مرتبہ میں اورراغب مرادآبادی خواجہ شہاب الدین سے ملنے گئے، مکانوں کی الاٹمنٹ کاکام ان کے ذمے تھا۔ لہٰذا ان سے جب بھی کوئی ملنے جاتاتووہ گھبراجاتے کہ یہ اب کوئی مطالبہ نہ کردے، اس بات سے آپ اندازہ کریں کہ ہجرت کے بعد کس قدرمسائل تھے۔
آج کل: انگریزی ادب میں ہمارے ہاں جولوگ لکھ رہے ہیں، ان کاکیامعیارہے؟
اسلم فرّخی: اس کا جواب بہت آسان ہے۔ آپ نے تومحمدحنیف کا ناول ’’آکیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز‘‘ پڑھا ہوگا، جب تک ہمارے ہاں ایسی کتابیں لکھی جارہی ہیں، ہمیں کسی پریشانی اورتشویش کی ضرورت نہیں۔ وہ باکمال ناول نگارہیں، انہوں نے خوب ہنرمندی سے ایک پورے عہد کوقلم بند کیا ہے۔ ہمارے ہاں لکھنے والوں کی کمی نہیں، بلکہ اچھے قاری کا فقدان ہے۔

خرم سہیل
عکاسی: عاصم رحمانی

ممتاز دانشور محقق ادیب اور ماہر تعلیم ڈاکٹر اسلم فرخی سے روزنامہ مقدمہ کا خصوصی انٹرویو

ڈاکٹر اسلم فرخی باوجود پچاسی (85) کے پیٹے میں ہونے کے ماشاء اللہ اب بھی چاق و چوبند ہیں اور ان کے شب و روز علمی و ادبی انہماک میں بسر ہوتے ہیں طالب علم اور چویان علم و ادب اپنی پیاس بجھانے کیلئے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں وہ حسب ضرورت ان کی رہنمائی و رہبری کرتے رہتے ہیں بہت سے لوگوں نے ان کے زیر نگرانی اردو ادب میں ایم، فل اور پی، ایچ ڈی کے مقالے لکھے ہیں ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سن و سال کے بڑھنے سے بعض دفعہ جب زندگی اتنی پربہار نہیں رہتی وہ اس سے بچ نکلے ہیں اس کا کچھ اثر تو ان کی زندگی نے بھی لیا ہے مگر ان کے ہاں خزاں رسیدگی قطعی نہیں ہے تحقیقی مقالہ نگاروں کے مقالوں کے برابر محاکمے کرتے رہتے ہیں ادبی اجلاسات میں بھی بقدر ضرورت اور اہمیت شامل ہوتے ہیں سائلوں کے سوالات کے تشفی بخش جواب دیتے رہنے کے علاوہ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف کے اعزازی سربراہ بھی ہیں، ڈاکٹر صاحب جامعہ کراچی میں بھی ناظم شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ تھے اور یہاں وہ رجسٹرار بھی رہے۔ کراچی کے مختلف کالجوں اور جامعہ کراچی کے اردو زبان و ادبکے نامور استاد رہے انہیں استاد الاساتذہ کی حیثیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر صاحب کثیر الجہات شخصیت کے مالک ہیں استاد ہیں، دانشور ہیں، اچے منتظم ہیں، تصنیف و تالیف و ترجمے کے شعبوں کے سربراہ رہے ہیں، علمی و ادبی اداروں کے مشیر رہے ہیں، ان کی خدمات بحیثیت براڈ کاسٹر بھی یادرکھی جائیں گی ان کی خدمات کا زمانہ وہ تھا جب ریڈیو کا طوطی بولتا تھا اور ڈاکٹر صاحب ریڈیو کیلئے فیچر، ڈرامے تقاریر جن میں مذہبی تقریریں بھی شامل ہیں لکھتے اور نشر کرتے اور یوں علم و ادب و اخلاق اور اسلامی ثقافت کی خدمت گزاری کرتے، ڈاکٹر صاحب شاعر بھی ہیں خاکہ نگار بھی ہیں اور آسان سادہ اور خوبصورت طرز تحریر کے مالک ہیں، محقق بھی ہیں مولانا محمد حسین آزاد اردو کے بہترین انشا پرداز کی حیات اور خدمات پر آپ کی کتاب ’’محمد حسین اازاد‘‘ اردو ادب میں خاصہ کے چیز ہے اور ڈاکٹر صاحب صوفی و صافی بھی ہیں، آپ کو سلطان المشائخ حضرت نظام الدین اولیا سے خاص عقیدت ہے جن کی حیات و تعلیمات پر آپ نے 6 کتابیں لکھی ہیں پہلے آپ ہندوستان میں سلطان جی کے عرس میں ہر سال شریک ہوا کرتے تھے اور پاکستانی وفد کے امیر بن کر جایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب ایک ادبی صحافی بھی ہیں، انہوں نے رسالے بھی نکالے اور بچوں کے لئے بھی لکھا۔ آپ اردو کے بہترین خاکہ نگار بھی ہیں اور خاکہ نگاری پر آپ کی تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ اور فصیح البیان مقرر بھی ہیں ایک خوش گفتار، بذلہ سنج مجلس آدمی بھی۔ اپنے اساتذہ خاص طور پر ڈاکٹر غلام مصطفی خاں اور پروفیسر حبیب اللہ غضنفر کے نام بڑی عزت و احترام سے لیتے ہیں اور ان کے علمی احسانات کا بے محابہ اور کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنے آبائی وطن میں مسلم لیگ کے سیکریٹری تھے انہوں نے 1946ء میں تعلیم چھوڑ کر دو قومی نظریے کا درمندی اور دلسوزی پر چار کیا اور تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ڈاکٹر صاحب میں یہ اوصاف ایسے ہی نہیں پیدا ہوگئے بلکہ اس کا ایک خاندانی پس منظر ہے 23 اکتوبر 1924ء کو لکھنو میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر اسلم فرخی جن کا وطن ضلع فرخ آباد کا صدر مقام فتح گڑھ ہے اور جس کا ذکر ان کی تحریروں میں جابہ جا ملتا ہے جسے بقول ڈاکٹر صاحب وہاں کے لوگ ’’ڈیر اولڈ فتح گڑھ‘‘ کہا کرتے تھے، شفاف ماحول صاف ستھری فضا، تازہ ہوا، سرسبز کھیتوں اور آموں کے باغ کا شہر تھا۔ یہاں کے رہنے والے مزاج کے سادہ، مخلص ہمدرد اور اپنوں اور غیروں پر جان چھڑکنے والے تھے ان کی خوشیوں اور ان کے دکھ میں کوئی تضع اور بناوٹ نہیں تھی۔ ان کا تعلق ایک ایسے ذی علم گھرانے سے ہے جس کا اوڑھنا بچھونا صدیوں سے ذوق علمی تھا اب وجد شاعر تھے، بہنیں بھی سخنور تھیں اس طرح علم و ادب ان کے خون میں شامل ہے اور ان کی نصف بہتر پروفیسر بیگم تاج فرخی بھی علمی ذوق سے بہرور ہیں حال ہی میں شاہد احمددہلوی پر ان کی کتاب کی رہنمائی ہوئی تھی اور ڈاکٹر صاحب کے ایک صاحبزادے آصف فرخی اردو اور انگریزی کے معروف ادیب ہیں۔ گویا ایں خانہ ہمہ آفتاب است ڈاکٹر صاحب کی کچھ مشہور تصانیف حسب ذیل ہیں۔ (1) ’’محمد حسین آزاد دو حصے‘‘ (2) ’’تذکرہ گلشن ہمیشہ بہار‘‘ تدوین (3) ’’چاند بی بی سلطانہ‘‘ زوجہ وزیر حسن (4) ’’قتیل و غالب‘‘ اسد علی انوری (5) ’’اردو کی پہلی کتاب‘‘ آزاد کی درسی کتابیں (6) ’’نیرنگ خیال‘‘ محمد حسین آزاد (7) ’’قصص ہند‘‘ محمد حسین آزاد (8) ’’ادعیتہ القرآن‘‘ ڈپٹی نذیر احمد (9) ’’نظام رنگ‘‘ حضرت سلطان جی کاخاکہ (10) ’’گل دستۂ احباب‘‘ خاکے (11) ’’آنگن میں ستارے‘‘ خاکے (12) لال سبز کبوتروں کی چھتری (خاکے) (13) ’’فرید و فرد فرید‘‘ (بابا فرید) (14) ’’دبستان نظام‘‘ (نظام الدین اولیا) (15) ’’بچوں کے سلطان جی‘‘ (16) ’’بچوں کے رنگا رنگ امیر خسرو‘‘ (17) ’’فرمایا سلطان جی نے‘‘ (18) بزم صبوحی‘‘ (19) ’’فرمایا خواجہ فرید الدین گنج شکر نے‘‘ (20) ’’فرمایا حضرت داتا گنج بخش نے‘‘ (21) ’’فرمایا حضرت سلطان جی نے‘‘ (22) ’’فرمایا غوث الاعظم نے‘‘ (23) ’’فرمایا خواجہ غریب نواز نے‘‘

انٹرویو: محمود عزیز/ عکاسی:محمد امین
مقدمہ: آپ نے فرمایا ہے آزاد کی تحقیق جس پر لے دے بھی ہوئی ہے۔ اور جسے اردو ادب کی تاریخ میں اعتبار بھی حاصل ہوا ہے، لیکن مقبولیت، جاذبیت، دلکشی اور دلچسپی کے اعتبار سے ایک بھی تاریخ ’’آب حیات‘‘ کا مقابلہ نہیں کر سکتی، اردو کی ادبی تاریخوں کی فہرست میں ’’آب حیات‘‘ ہمیشہ سرفہرست رہے گی۔آپ اپنے اس بیان کی مزید وضاحت فرمائیں۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: ’’آب حیات‘‘اردو کی پہلی شعری تاریخ ہے جو واضح انداز میں لکھی گئی اس کا انداز تذکروں سے مختلف ہے یہ تذکروں کی دنیا سے بہت آگے کی چیز ہے۔ اس میں زبان کی تبدیلیوں کا ذکر ہے اور مثالیں دے کر معاشرتی تبدیلیوں کا بیان ہے۔
ہم مولانا محمد حسین آزاد کو پہلا خاکہ نگار کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہاں میر تقی میر کا خوبصورت خاکہ ہے اور کیسے باوقار انداز میں کھینچا گیا ہے! ایک اور شاعر کا خاکہ ہے انہوں نے کہ خاکے محبت اور محنت سے لکھ ہیں جن سے شاعر کی پوری شخصیت سامنے آتی ہے۔
آزاد کے سامنے اور ان کے عہد میں ماخذ حاضر اور موجود نہیں تھے اور واضح نہیں تھے بعد میں مخطوظے، دریافت ہوئے، بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئیں، وہ باتیں جو زبانی معلوم ہوتی چلی آئی ہیں بعض اعتبار سے صحیح نہیں۔ ان کے دور میں جومعلومات حاصل ہوسکیں ہوئیں۔ تحقیق میں ردوقبول کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔
مقدمہ: آپ نے ادبی تحقیق کے چار مطالبوں کا ذکر کیا ہے۔
(1) غیر موجود حقائق کی دریافت (2) موجودہ حقائق کا دوبارہ جائزہ (3) حدود علم کی توسیع (4) مناسب اسلوب۔ کیا مولانا محمد حسین آزاد کا تحقیقی شعور ان مطالبوں سے ہم آہنگ ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: جی، بالکل۔ آزاد کے عہد میں جوچیزیں موجود تھیں انہوں نے اس کو قلم بند کیا۔ انہوں نے اپنے عہد کے تحقیقی تقاضوں کو پوری ذمہ داری سے نبھایا اور جو کچھ لکھا سوچ سمجھ کر لکھا۔
مقدمہ: آپ نے مولانا محمد حسین آزاد پر تحقیق میں اپنی زندگی کا خاصا وقت صرف کیا ہے ان کیی اردو ادب میں حیثیت کے بارے میں فرمائیں اور یہ بھی فرمائیں کہ آزاد کے علاوہ اردو کے بڑے انشا پرداز کون ہیں۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: آزاد کی اردو ادب میں مسلمہ حیثیت ہے یہ حیثیت ہمیشہ برقرار رہے گی، ادبی محقق کی حیثیت سے، تاریخ ادب کو اپنے عہد کی تقاضوں کے مطابق لکھنے والے اور لسانیت کے ماہر کی حیثیت سے، اردو میں نئی شاعری کا ڈول ڈالنے والے کی حیثیت سے اردو کا کوئی تذکرہ، اردو کی کوئی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ سرسید، مولانا حالی، مولانا شبلی، ڈپٹی نذیر احمد اردو کے بڑے انشا پرداز ہیں۔ ہمارے دور میں مولانا صلاح الدین احمد جومیرے بزرگ تھے، اور بڑے ادیب تھے وہ آزاد کے فدائی تھے اور ان کا طرز تحریر مولانا آزاد کی انشا پردازی سے متاثر تھا۔
مقدمہ: ہمارے معاشرے میںجو شدت پسندی در آئی ہے، کیا ہمارا ادب اس چیلنج سے نبرد آزما ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: اعلیٰ درجہ کے ادب میں شدت پسندی نہیں ہوتی۔ وہ سب کچھ ہوتا ہے ماسوائے شدت پسندی کے۔ اعلیٰ ادب دائمی قدروں کو عزیز رکھتا ہے اس کا پرچارک ہوتا۔ کسی بڑے ادیب کے ہاں شدت پسندی نہیں ملتی کیوں کہ یہ دائمی قدر نہیں۔ میر کی غزل، غالب کی غزل، مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں شدت پسندی کا نظریہ نہیں ملتا۔ فیض احمد فیض احمد فراز، احمد ندیم قاسمی۔ تابش دہلوی ان کے کلام میں شدت پسندی کہیں نہیں پائی جاتی۔ ادب عالمگیر صداقتوں اور دائمی قدروں کا نقیب ہوتا ہے ان کی توضیح کرتا ہے اور اس کا ترجمان ہوتا ہے حالت کے بگڑنے سے شدت پسندی در آتی ہے مگر یہ عارضی ہے ادب کی سرشت آدمی کو انسان بنانے کی ہے۔
مقدمہ: ملک میں علم ادب کو فروغ دینے کیلئے جوادارے قائم ہیں۔ مثلاً اردو لغت بورڈ اکادمی ادبیات اردو، انجمن ترقی اردو، کراچی یونیورسٹی وفاقی اردو یونیورسٹی کے تصنیف و تالیف کے شعبے وغیرہ وغیرہ ان کی کارکردگی کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: میرا ان سب اداروں سے قریبی تعلق رہا ہے، میں مجلس ترقی ادب کارکن رہا اس نے اردو کے کلاسیکی ادب پر اچھی کتابیں چھاپی ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف کا ناظم رہا اور اب وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ تصنیف و تالیف کا ناظم ہوں۔ ان اداروں کے سپرد جو کام ہیں وہ یہ انہماک اورذمہ داری سے انجام دے رہے ہیں۔
اکادمی ادبیات اوردو پاکستانی ادبیوںاور معاصر ادبیوں کے بارے میں جس معلومات افزاسلسلے ’’پاکستانی ادب کے معمار کے جس اشاعتی منصوبے پر کام کر رہی ہے یہ ایک بڑی مفید خدمت ہے جو اکادمی انجام دے رہی ہے۔
مقتدرہ قومی زبان نے انگریزی، اردو ڈکشنری شائع کی ہے جو اردو زبان ایک بڑی خدمت ہے یہ طالب علموں، عام آدمیوں اور ترجمہ کرنے والوں کی ضروررت کو پورا کرتی ہے۔ میں ان اداروں کی کارکاردگی سے مطمئن ہوں۔ اگرچہ ان اداروں کے دائرہ ہائے کار محدود ہیں جن نتائج کی توقع ہونی چاہیئے وہ بروے کار نہیں آتے اصل میں کھلا میدان ہے نہیں۔ کہیں مالی مشکلات ہیں کہیں کچھ اور رکاوٹیں ہیں۔
مقدمہ: انسائیکلو پیڈیا کسی بھی زبان کی ثروت میں اضافہ کا باعث ہے مگر اردو میں اب تک کوئی جامع انسائیکلو پیڈیا موجود نہیں۔ کیا آپ اس کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: بالکل۔ دانش گاہ پنجاب سے مولوی محمد شفیع اور ان کی وفات کے بعد ڈاکٹر سید عبداللہ کی سربراہی میں ایک اردو انسائیکلو پیڈیا ’’دائرہ، معارف اسلامیہ، کے نام شائع ہوا یہ بڑا عالمانہ کام ہے انسائیکلو پیڈیا باضابطہ تازہ ترین معلومات سے مزین کیا جاتا ہے جیسے انسائیکلو پیڈیا برٹینکا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا کی معلومات چند برس کے بعد نقاص ہو جاتی ہیں۔ جیسے کسی ملک میں انقلاب آجائے، تحقیق و تدقیق سے کوئی نئی بات سامنے آئے اور نوبہ نوع ایجادات وغیرہ۔ انسائیکلو پیڈیا بہت سے موضوعات پر ہوتا ہے جیسے ادیان عالم، بحری حیات وغیرہ وغیرہ۔ یہ کرنے کے کام ہیں جو توجہ انہماک اور مناسب عملہ چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مخلص لوگوں کی کمی ہے ابھی تک قومی زبان رائج کرنے کا عمل ہی مکمل نہیں ہوا۔
مقدمہ: غزل اردو شاعری کی آبرو سمجھی جاتی ہے، اس کے فروغ میں کراچی کے شاعروں کا کیا کردار ہے۔ اور کراچی میں نشوونما پانے والی غزل کی کیا منفرد خصوصیات ہیں۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: یہ سوال بہت اچھا ہے۔ ’’کراچی کے دبستان میں اردو غزل کا ارتقا، یہ مقالہ پی ایچ ڈی کے لئے جاوید منظر نے میری نگرانی میں لکھا ہے۔ جس میں کراچی میں نشوونما پانے والی غزل کی منفرد خصوصیات کا عالمانہ جواب دیا ہے جس پر ان کو جلد ہی ڈاکٹریٹ کی ڈگری مل جائے گی۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی کے دبستان غزل میں باندھے جانے والے تمام مضامین، نئے لہجے، نیاز طرز احساس۔ نئے اسالیب جن کو آپ کراچی کے حوالے سے پہچانتے ہیں اور وہ سب بڑے شاعر جنہوں نے کراچی میں غزل کو پرپرواز دیئے۔ پروان چڑھایا وہ سب آپ کو جاویدمنظر کے مقالے میں ملیں گے۔
مقدمہ: آپ کی زیر نگرانی جاوید منظر کے علاوہ اور کن محققوں نے کن کن موضوعات پر تحقیقی کام کیا ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: کراچی میں نعت نگاری میں بڑی ترقی ہوئی ہے میں اس سلسلے میں کراچی میں نعت کے ارتقا پر ایک مقالہ لکھا رہا ہوں۔ پچھلے دنوں فاطمہ حسن نے زخ ش حیات و خدمات پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اس کتاب کو انجمن ترقی اردو نے شائع بھی کر دیا ہے۔ اسی طرح سرور احمد زئی نے، ڈاکٹر مصطفی خاں پر اور اقبال اسدی نے، ریڈیو پاکستان کراچی کی پچاس سالہ علمی اور ادبی خدمات کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ، پر میری نگرانی میں مقالے لکھے ہیں۔
مقدمہ: کچھ لوگ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ صاحب خاکہ کی برائیوں، فروگزاشتوں کا بھی کھل کر تذکرہ کر دینا چاہیئے۔ اس سے شخصیت کی پوری تصویر سامنے آجاتی ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: میں انسانی برائیوں کو اچھالنے کے حق میں نہیں اور نہ ہی یہ کوئی مشکل کام ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس نسل کو معلوم ہونا چاہیئے کہ بڑے لوگ کسی طرح بڑے بنے۔ کوئی فروگزاشتوں سے خالی نہیں ہوتا۔ جس میں زیادہ خوبیاں ہیں ہو اچھا ہے۔ فروگزاشتوں کا بیان تو بہت آسان ہے۔ میں ایک صاحب کی آپ سے ملاقات کرا رہا ہوں بین السطور میں خامیوں کا بھی اظہار کر دیا مثلاً اپنے خاکے ’جان بیتاب میں‘ میں نے ایک خاتون کے ذکر میں ان کی خامیاں اور کمزوریاں بیان کر دیں ہیں جس کو جیسا دیکھا ویسا بیان کر دیا۔ پروفیسر حبیب اللہ غضنفر ایک بہت اچھے استاد تھے مگر ان کا خیال تھا کہ طالب علم کو سر نہیں چڑھانا چاہیئے ان کا طریقہ تدریس قدیم تھا ہر ہر شعر کے عنی و مطلب بتاتے مگر جو اس کو پسند کرتے تھے وہ ان کے پڑھنے پر فدا تھے۔
مقدمہ: تصوف کے بارے میں کچھ بتایئے۔
ڈاکٹراسلم فرخی:محبوب الٰہی حضرت نظام الدین اولیا نے فرمایا ہے انسانی زندگی دو دائرے ہیں بڑا دائرہ شریعت پر عمل کرنا یعنی احکامات الٰہی کی پابندی کرنا ہے طریقت چھوتا دائرہ ہے جس کا مقصد پاکیزگی تقویٰ اللہ تعالیٰ سے محبت ہے جو دائرہ شریعت سے باہر آگیا اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔ تصوف پاکیزگی تقویٰ عالمگیر سطح پر ہمدردی، انسانیت کو سربلند کرنا۔ اللہ اور رسول کی پیروی کرنا ہے تصوف علم نہیں ہے بلکہ ایک نہایت پاکیزہ طریقہ زندگی ہے۔
مقدمہ: وفاقی اردو یونیورسٹی کے قیام کے بعدکیا اب سائنس کی اعلیٰ تعلیم اردو میں کامیابی سے جاری ہے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: بالکل جاری ہے۔ بہت پہلے سے جاری تھی 25 سال پہلے ڈاکٹر اشرفی نے اپنی تھیس اردو میں لکھی تھی۔ وفاقی اردو یونیورسٹی خاص اس مقصد کے لئے قائم کی گئی ہے عملی طور پر سارے کالجوں میں سائنس اردو ہی میں پڑھائی جاتی تھی۔ اس کو اس کا حق دیجئے پھر دیکھئے تعلیم کیسی پھلتی پھولتی ہے۔ اردو کو ذریعہ تعلیم تو بادل نخواستہ بنا رکھا ہے۔
مقدمہ: معلم اورمتعلم میں کوئی روحانی اور ذہنی رشتہ برقرار نہیں رہا،آپ اپنے اس خیال کی کچھ وضاحت فرمائیں گے۔
ڈاکٹراسلم فرخی: آج کل استاد اور شاگرد کے رشتے میں پہلی جیسی بات نہیں وہ مضبوطی اور استواری نہیں جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ ایک استاد نے اس کالج میں پڑھایا اس کالج میں پڑھایا، وہ ٹھیکہ پرپڑھاتا ہے پہلے استاد کو طالب علم کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا تھا۔ آج کل یہ بات ناپید ہے اس صورت میں روحانی رشتہ کیسے پیدا ہوگا۔آج کل روحانی رشتہ باپ بیٹے میں نہیں ہے۔ آج کل تو بس استاد آیا پڑھایا چلا گیا، نہ وہ طالب علموں کے خاندانی پس منظر سے واقف ہو پاتا ہے نہ اساتذہ کے وہ مشفقانہ رویے رہے اور نہ محبت کا وہ دور دورہ رہا۔ سارے معاشرے میں بے التفاتی کا رجحان عام ہوگیا ہے۔
مقدمہ:ہمیں بچوں کے لئے کیسا ادب پیدا کرنا چاہیئے؟
ڈاکٹر اسلم فرخی: ہمیں بچوں کو نئی معلومات بہم پہنچانی چاہئیں۔ بچوں کے دماغ کو روشن کرنا چاہیئے۔ اپنی ملت و قوم کی سربلندی کے لئے ایسا ادب پیدا کرنا چاہیئے جوانہیں خوبیوں کی طرف لے جائے۔
مقدمہ: آپ نے کل اور آج میں کیا فرق محسوس کیا؟
ڈاکٹر اسلم فرخی: اب جو دنیامیں تبدیلی آئی ہے کل اور آج میں وہی فرق ہے۔ اخبار میں ایک اشتہار آرہا ہے کہ کل میں آج میں کیا فرق ہے۔ اخبار میں ایک اشتہار آرہا ہے کہ کل میں آج میں وہی فرق ہے۔ انڈے کی قیمت پہلے 3 روپے تھی آج 6 روپے ہے جبکہ میرے بچپن میں انڈا 2 پیسے کا تھا 64 پیسے میں 32 انڈے آتے تھے۔ ایسا ہی دونوں زمانوں کا فرق ہے جب میں اپنے زمانے کی ارزانی اور بہتات کا ذکر کرتا ہوں تو میرے بچے (پوتے) کہتے ہیں کہ دادا آپ کو جھوٹ نہیں نہیں بولنا چاہیئے۔ عالمگیر مہنگائی نے ہر چیز کو آگ لگا رکھی ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں کس قدربڑھ گئیں ہیں۔ بس کے کرائے میں کتنا اضافہ ہوگیا ہے۔ اس معاشی تبدیلی سے معاشرے میں رہن سہن کی تبدیلی اور دوسری تبدیلیوںکو حیرت سے دیکھتا ہوں۔
میرے زمانے میں دھیلے میں سگریٹ اوردھیلے میں پان تھا۔ کوک چار آنے کا تھا ہم تین دوست کوک پیتے اور چار آنے بیرے کو دیتے اس طرح روپیہ پورا ہوا کرتا اور بیرا جھک کر سلام کرتا اور آج کل روپے پیسے میں ایسی بے برکتی ہے کہ سوا پشیمانی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
مقدمہ: ہمارے نظام تعلیم کے بارے میں کچھ ارشاد فرمایئے۔
ڈاکٹر اسلم فرخی: ہمارے نظام تعلیم میں اتنے تجربے کیے گئے کہ وہ تعلیمی نظام ہی نہیں رہا۔
مقدمہ: ملک عزیز کے لئے آپ کی کیا خواہش اور پیغام ہے؟
ڈاکٹراسلم فرخی: ایک ہی خواہش ہے کہ اس ملک کے بنانے والوں میں، میں ایک ادنیٰ کارکن تھا۔ 1946ء میں تعلیم چھوڑ کر میں نے مسلم لیگ کا جھنڈا اٹھایا۔ مجھے اس ملک سے محبت ہے، اس ملک کیلئے میں نے اپنے قلم سے، اپنی علمی صلاحیت سے پورا پورا کام لیا ہے۔ دیانت داری اور امانت داری سے یقین، اتحاد، تنظیم پر عمل درآمدہو۔ اچھے انسان اپنے عمل سے قوم کی رہنمائی کریں اور یہ ملک ایک ممتاز اور شاندار حیثیت کا حامل ہو۔